12-Feb-2023 لیکھنی کی غزل -
غزل
دشمنی دوستی پر ملے
یار ہی کاٹتا سر ملے
انکے لب کے تبسم بھی اب
مارتے دل پہ خنجر لگے
بس وفاؤں کے بدلے مجھے
آنسوں کے سمندر ملے
غیر سے کیا امید وفا
جب رفیقوں سے نشتر ملے
انقلاب مقدر ہے یہ
جو ملے وہ ستمگر ملے
ساتھ دے عمر بھر جو میرا
ایسا کوئی تو دلبر ملے
مجھکو روداد کربل میں بھی
خون کے ہی سمندر ملے
شوخ نظروں میں ثروت مجھے
رقص کرتے ہی خنجر ملے
ثروت حسین ثروت دولتپوری کٹیہار بہار.
Haaya meer
13-Feb-2023 09:36 PM
👍
Reply